اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق میں الوفاق دھڑے کے مستعفی رکن پارلیمان "مطر ابراہیم مطر" نے آل خلیفہ خاندان کی حکومت میں شدید اندرونی اختلافات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مظاہرین کو کچلنے اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ دوسری طرف سے ولیعہد سلمان بن حمد بن عیسی آل خلیفہ مخالفین کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کی بولی بول رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکومت کے اوپر سیاسی انارکی اور شدید سرگردانی کی حالت چھا گئی ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین میں موجودہ بدامنی اور آشفتگی کی صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ خاندان کا کوئی بھی متفقہ موقف نہیں ہے اور صورت حال روز بروز خطرناک سے خطرناک تر ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے آل خلیفہ کے ولیعہد کی طرف سے مذاکرات کی مسلسل دعوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض حکام کا موقف ملک کی موجودہ صورت حال اور آل خلیفہ سرکار کے عملی رویئے کے منافی ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ خاندان سے وابستہ سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی پالیسی ملک میں فرقہ واریت پھیلانے اور مذہب کی بنیاد پر انقلابی قوتوں کے درمیان اختلاف ڈالنے جیسے مقاصد پر مبنی ہے۔المطر نے کہا: بحرین پر مسلط خاندان دنیا والوں کو یہ جتانے کی کوشش کررہا ہے کہ گویا سیاسی اصلاحات کے حوالے سے بحرین کی شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان فرق ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بحرین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آل خلیفہ خاندان عوام ـ چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ـ کے مطالبات کی طرف توجہ نہیں دے رہا اور یہی بات ملک میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مطر ابراہیم المطر نے آل خلیفی ولیعہد سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرین کی باگ ڈور خود سنبھالے۔انھوں نے کہا کہ یہ معقول نہیں ہے کہ ایک طرف سے ملک میں امن و امن اور آرام و سکون کی بحالی کی بات کی جائے اور دوسری طرف سے 42 سال سے بحرین کے وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ اور ان کے ماتحت اداروں، وزارت داخلہ، سیکورٹی اداروں اور سرکاری میڈیا کی اعمال امن و امان سے متصادم ہوں۔ انھوں نے بحرین کی صورت حال کے بارے میں خبردار کیا اور کہا: عام شہریوں کے کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد اعلانیہ طور پر سڑکوں پر آتے ہیں اور عام لوگوں اور مظاہرین کو نشانہ بناتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کے خفیہ ہاتھ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بحرین میں شہریوں کے لباس میں ملبوس غنڈوں کی طرف سے چاقو، خنجر اور تلوار کا استعمال بحرین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سامنے آرہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110